ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / مسلم خواتین کی بے عزتی کے پیچھے ہندوتوا گروپ کی سازش کار فرما ہے : کیمپس فرنٹ آف انڈیا کا الزام

مسلم خواتین کی بے عزتی کے پیچھے ہندوتوا گروپ کی سازش کار فرما ہے : کیمپس فرنٹ آف انڈیا کا الزام

Sat, 05 Feb 2022 20:01:43    S.O. News Service

بنگلورو:5؍ فروری (ایس اؤ نیوز)حالیہ دنوں میں ملک گیر سطح پر مسلم خواتین کو بدنام کرنے اور ان کی ہتک کرنے ہندوتوا گروپ منظم سازشیں کررہاہے۔ حکومت سمیت سماج میں امن و امان کو بحال رکھنے والی پولس کی کارروائیاں شبہات کو مستحکم کرتی ہیں ۔ اور کالجس میں باحجاب طالبات کو کالج میں داخلے سےانکار کرتےہوئے دستور کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، اس بات کا الزام  کیمپس فرنٹ آف انڈیا کی قومی مجلس عاملہ کی ممبر کے پی فاطمہ شیرین  نے لگایا۔

بنگلور پریس کلب میں  بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک گیر سطح پر  دائیں بازو کے ہندوتوا گروپ منظم طریقے سے مسلم خواتین  کو غیر  انسانی بنانے کی  سازشیں کررہی ہیں۔ مختلف ریاستوں میں بعض مسلم خواتین پر حملے بھی ہوئےہیں اور اس سے منسلک افراد اور حکومت اور پولس کی ایسے لوگوں کی حمایت کئی طرح کے شبہات کو مستحکم کرتی ہیں۔

فاطمہ شیرین نے کہا کہ مسلم خواتین جہدکاروں کی آن لائن  نیلامی اورکرناٹکا اور کیرلا میں مسلم طالبات کے بنیادی حقوق سے انکار کیاجانا ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ آن لائن نیلامی کے فتنہ پرور کرناٹکا، مہاراشٹرا، دہلی ، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈسے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس سنگین جرم کے پیچھے چھپی ہوئی منظم سازش کو ثابت کرتےہیں۔ مہاراشٹرا کی پولس نے سازش میں ملوث چند کوگرفتارکیا مگر گرفتار کئے جانے تک اس سنگین جرم کے خلاف پولس بالکل بے حرکت تھی ۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار شدگان زیادہ ہندوتوا کے رابطہ میں ہونے والے پائے گئے  ہیں۔

اُڈپی کالج میں پرنسپال کا مسلم طالبات کو حجاب نکالنے کا فرمان جاری کرنا ،کالج ترقی کمیٹی کے صدر وہاں کےبی جے پی رکن اسمبلی کے دباؤ کا نتیجہ ہوسکتاہے۔ اس واقعہ سےپہلے  مسلم طالبات کا حجاب ایک عرصے تک کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ مسلم طالبات کی باحجاب کلاسوں میں حاضری کی مخالفت میں سنگھ پریوار سے شہہ پا کر چند نوجوان کا گروپ شال پہن کر کالج آتےہوئے ہم دیکھ  رہےہیں۔ اب دائیں بازو کے ہندوتواگروپ یہی حربہ دیگر کالجوں میں پھیلا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ مسلم خواتین کو غیر انسانی کرنے اور ان کی مذہبی شناخت کو مورد الزام بنانے کی منظم و منصوبہ بند سازش کے سوا کچھ نہیں  ہے۔

فاطمہ شیرین نے کہا کہ دستوری اور بنیادی حقوق سے انکار کرنےمیں کالج پرنسپال کا رویہ بہت ہی افسوس ناک ہے۔ یہ صرف نفرت کو پسند کرنےو الوں کےلئے پسندیدہ ہوسکتاہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان مسائل کی منصفانہ جانچ کرتےہوئے سازش میں ملوث افرادکو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے باشعور شہریوں سے اپیل کی کہ دستوری حقوق کے لئے جدوجہد کررہی طالبات کے ساتھ   متحد ہوکر کھڑے ہونے کا مظاہرہ کریں۔ پریس کانفرنس میں کیمپس فرنٹ آف انڈیا کی عہدیداران زیبا شرین، عائشہ مرشدہ ، فاطمہ عثمان، مدثرہ موجود تھیں۔


Share: